چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل
ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو
۔
چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو
۔
نظر ہے ابر کرم پر، درخت صحرا ہوں
کیا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو
۔
مقام ہم سفروں سے ہو اس قدر آگے

کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو

۔
بنایا تھا جسے چن چن کے خارو خس میں نے
چمن میں پھر نظر آئے وہ آشیاں مجھ کو
۔
پھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبیں
کیا جنہوں نے محبت کا رازداں مجھ کو

(بانگ درا سے اصل اقتباس)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s